اُڈپی:29جون(ایس او نیوز) ضلع بھر میں پھر ایک بارپھر سمندری کٹاؤ شروع ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی گھر ، ناریل کے درخت، ماہی گیری کے راستے خطرے کی زد میں ہیں۔ محکمہ بندرگاہ اور ماہی گیر نے ہر سال کی طرح امسال بھی عارضی دیوارکی تعمیر شروع کی ہے۔
ادیاور کے پڈوکیرے کے سمندری کنارے میں موجوں کا قہر جاری ہے، طوفانی موجوں کی مار سے عارضی طورپر تعمیر کردہ دیوار کے بڑے بڑے پتھر نکل کر سمندر کے حوالے ہورہے ہیں۔ کل شام سے ساحل پر موجیں طوفانی ہوگئی ہیں، ساحل پر تعمیر کردہ کانکریٹ روڈ کو موجوں کی ٹکراؤ سے سڑک کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، بعض راستوں پر لہروں کی وجہ سے ریتی بھر جانے سے سواریوں کے لئے کافی دقتیں در پیش ہیں۔ موجیں سڑک پار گھروں کے صحن تک پہنچ رہی ہیں۔ ہرسال پڈوکیرے میں ساحلی کٹاؤ سے کافی نقصان ہوتاہے امسال سے بھی یہاں موجوں کاننگاناچ جاری ہے، یہاں گریجا کوٹیان، ہریش، سدھاکر پترن کے گھر وں سے سمندر کا پانی لہروں کے ذریعے پار کر دوسری طرف موجود ندی میں مل رہاہے، مکینوں میں خوف گھر کرگیا ہے، گھروالے اس بات کو بھی لے کر خوف زدہ ہیں کہ دن بدن موجوں کی طوفانیت میں تیز ی آرہی ہے۔
اُڈپی ضلع پنچایت کے صدر سینکر بابوہرسال سب سے زیادہ نقصان ہونےو الا ادیاور کا پڈوکیری علاقہ سے منتخب ہوئے ہیں، عوام پر امید ہیں کہ ہر مرتبہ متعلقہ مسئلہ کو مستقل طورپر حل کرلیا جائے گا۔ عوامی مانگ پر ضلع پنچایت صدر دینکر بابو نے کہاکہ مسئلہ کی طرف خصوصی توجہ دے کر اس کو حل کرنے کی کوشش کرونگا۔ موسلادھار بارش اور ساحلی کٹاؤ سے بچاؤ کے لئے کئی ایک مقامات کو خطرہ لاحق ہے ، گنگولی میں ایک گھر خطرے میں ہے۔ حالات کےپیش نظر کئی مقاما ت پر حفاظتی دیوار کی تعمیر جاری ہے۔ نقصان زدہ علاقوں کا محکمہ کی طرف سے سروے کیاگیا ہے جہاں راحت کے طورپر کچھ امداد کی گئی ہے۔
اُلا ل میں 22گھر خطرے میں ،تین گھروں کو نقصان
اُلال:29جون(ایس او نیوز)موسلادھار بار ش اور طوفانی ہواؤ ں کے نتیجےمیں اُلال، سومیشور، اچھیلا، مکچیری، ہلری نگر، کوٹے پورا، سبھاش نگر، کئی کو، موگویرپٹن میں طوفانی موجوں میں تیزی آئی ہے، علاقہ میں قریب 22گھر آفت میں پھنسے ہوئے ہیں۔
طوفانی لہروں کی مار سے سومیشور گرام پنچایت ممبر کے گھر سمیت تین گھروں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ گذشتہ کئی بارش کے موسم میں سومیشور اور اچھیلا میں کئی گھر سمندر کے حوالے ہوگئے ہیں۔ امسال بھی خطرے کی وجہ سے مکین خوف زدہ ہیں۔ اچھیلا کے ساحل پر قریب40گھر ہیں، جن میں گرام پنچایت ممبر یوگیش، یمونا، وسنت نامی افراد کے گھر لہروں کی مار سے نقصان پہنچا ہے۔ گھر والے اپنے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لینے پر مجبورہیں۔ بقیہ مقامات پر عارضی طورپر تعمیر کردہ حفاظتی دیوار کے پتھر سمندر کے حوالے ہوگئےہیں۔